طلاق کا مسئلہ اور تعویذ وظیفہ ، من پسند شادی ، محبوب کو حاصل کرنا ، گھریلو ناچاکی ، سوتن کا روگ ، بچوں کی پریشانی ، پسند کی شادی کے لئے والدین کو راضی کرنا ، جادو ٹونا کا توڑ جیسے مسائل کے حل کے لئے رابطہ کریں - رابطہ 0301نمبر
Black Magic Childlessness Astrology Issues Dreams Explanation Disobedient Children Marriage Problems Job Problems Business Issues Visa Problems0301

SEE YOUR FUTURE THROUGH ISTIKHARA

ISTIKHARA ROOHANI AMLIYAT & KAMALAAT

We help you know your future with iSTIKHARA and improve you life with wazaif.

استخارے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

استخارہ ، خیر سے ہے۔ اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ سے خیر مانگنا، بھلائی طلب کرنا۔
رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام کو دعائے استخارہ قرآن کی ایک آیت کی طرح سکھایا کرتے تھے۔ پہلے اس دعا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، کہ اس کے الفاظ کیا ہیں ؟ اور ان کا مفہوم کیا ہے ؟
صحیح البخاری کی روایت ہے:
“كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة في الأمور كلها كما يعلمنا السورة من القرآن فيقول:
«إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ
ثُمَّ لِيَقُلْ
جب تم میں سے کوئی استخارہ کرے تو فرض نماز کے علاؤہ دو رکعت پڑھے ، پھر استخارے کی دعا کرے۔
استخارے کے بارے میں دس باتیں نوٹ کر لیجیے۔
1- کسی فرض اور واجب کے لیے استخارہ جائز نہیں۔ جیسے میں نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔ زکوٰۃ دوں یا نہ دوں۔ بیوی بچوں کا خیال رکھوں یا نہیں۔
2- کسی حرام کام کے بارے میں بھی استخارہ نہ کیا جائے۔
جیسے : شراب پیوں کہ نہیں۔ سود کھاؤں کہ نہیں ؟
3- جہاں دو حلال چیزوں میں ایک چیز ” یقینی طور پر زیادہ بہتر” ہو تب بھی استخارہ جائز نہیں۔ یقینی طور پر جو چیز زیادہ بہتر ہو وہ لازما اختیار کی جائے۔
4- ہاں اگر کوئی چیز جائز اور مباح ہو ، ظاہری طور پر بہت اچھی ہو ، لیکن باطن کا علم نہ ہو ، یا دو چیزیں آپ کو بظاہر
” مساوی الوزن” (Equally Good ) محسوس ہو رہی ہیں ، تب استخارہ کرتے ہوئے اللہ سے پوچھنا چاہیے کہ
تیری رضا کس میں ہے ؟ ‎میری بہتری کس میں ہے ؟
5- دوسروں سے استخارہ : آدمی کو خود استخارہ کرنا چاہیے۔ یہ اس کی اپنی دو رکعت نماز ہے۔ یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔ اس کے اللہ پر ایمان اور توکل کی دلیل ہے۔
کسی دوسرے شخص سے استخارہ نہیں کرانا چاہیے۔
بالخصوص ” پیشہ ور نام نہاد روحانی شخصیات ” سے پیسہ دے کر استخارہ کرانا بالکل جائز نہیں۔
6-خواب :
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ استخارے کی دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد کسی خواب کا آنا اور بشارت کا ہونا ضروری ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ آپ نے نماز پڑھ لی ، اور دعائے استخارہ کرلی ، آپ نے اپنا کام مکمل کرلیا۔ اب جو بات دل کی تسلی کے مطابق ہو ، اس پر عمل کیجیے۔ کسی خواب کے انتظار میں وقت ضائع نہ کیجیے۔
7-معلومات :
ملازمت کا معاملہ ہو ، یا شادی کا ، یا کاروبار کا، پہلے مکمل معلومات حاصل کیجیے ، بعد میں نہ پچھتائیے۔
8- مشورہ :
صاحب الرائے ، اہل علم افراد سے مشورہ ضرور کیجیے۔
مشورہ دینے والے لوگ آپ کے نہ صرف خیر خواہ ہوں ، بلکہ کاروباری تجربہ رکھتے ہوں ۔ ہر ایرے غیرے نتھو چہرے سے مشورہ نہ کیجیے۔
یاد رکھیے وہ شخص کبھی نادم و شرمسار نہیں ہوتا ، جو ہر معاملے کو اللہ کے حوالے کرتا ہے اور جو مشورہ کرتے رہتا ہے۔ مشورہ ایک ایسی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں صحابہ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ( و شاورھم فی الامر)۔ (آل عمران : 159)
مشورے کے بغیر فیصلہ کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
مشورہ کرنے کا فایدہ یہ ہوتا ہے کہ معاملے کے مثبت اور منفی دونوں پہلو کھل کر آپ کے سامنے آجاتے ہیں اور آپ تول سکتے ہیں کہ مثبت پہلو زیادہ ہیں یا منفی۔
‎مشورے کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ کو زیادہ بہتر پہلو کی طرف
‎رہنمائی فرماتا ہے۔
9- بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اللہ سے خیر مانگنے میں اور استخارہ کرنے میں جلد بازی سے کام مت لو۔ اس وقت تک خیر مانگتے رہو اور استخارہ کرتے رہو جب تک دل مطمئن نہیں ہو جاتا.
10- حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس دو رشتے ائے۔ ایک ابو جھم بن حذیفہ کا اور دوسرا معاویہ کا۔انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ کیا۔ آپ نے دونوں کے عیب بتائے اور مشورہ دیا اسامہ بن زید سے نکاح کرو۔ انہوں نے ناگواری محسوس کی۔ آپ نے پورے اعتماد سے دوبارہ مشورہ دیا۔ اسامہ بن زید سے نکاح کرو۔ پھر اللہ نے اس میں برکت رکھ دی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے۔